Sad poetry in Urdu

Sad poetry in Urdu

Waqat Nay Bata Diya Logo Ka Mayar, Warna,
Hum Bhi Wo Thay Jo Sab Ko Apna Kehty The!

وقت نے بتا دیا لوگوں کا معیار، ورنہ،
ہم بھی وہ تھے جو سب کو اپنا کہتے تھے!

Itni Umeed Muge Bhi Nahi The,
Jitney Wo Yaad Aanay Lagay Hain!

اتنی اُمید مجھے بھی نہیں تھی،
جتنے وہ یاد آنے لگے ہیں!

خاموش ہے گاؤں تیری ہجرت کے ہہ دن سے
پیڑوں پہ پرندے بھی تیرے بعد نہ بُولے 😰

کبھی کبھی یہ تیرا مجھ سے ہم سُخن ہونا
مُنافقت بھی اگر ہے تو خوبصورت ہے

تو نے کوشش تو بہت کی ہے مصنف لیکن
ہم کہانی میں بھی ہمراہ نہیں ہو سکتے

Ye Muge Chain Kyon Nhi Parta?
Ek He Shaks Tha Jahan Mein Kiya?

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا؟
ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا؟

Broken Heart Poetry Shayari SMS Pics

Aur To Kuch Nahi Kiya Main Nay,
Bas Apni Halat Tabah Kar Li Hai!

اور تو کچھ نہیں کیا میں نے،
بس اپنی حالت تباہ کر لی ہے!

Urdu Full Sad Poetry

Ab Nikly Ga Teri Ankho Say Janaza Mera,
Log Tery Anso Main Meri Mayat Dekhen Gay!

اب نکلے گا تیری آنکھوں سے جنازہ میرا،
لوگ تیرے آنسووں میں میری میت دیکھیں گے!

Heart Touching Sad Poetry in Urdu

Hamesha Sath Rehny Ki Bat Karta Tha,
Wo Jis Ko Khabar Nahi Ab Meri!

ہمیشہ ساتھ رہنے کے بات کرتا تھا،
وہ جس کو خبر نہیں اب میری!

Bewafa Sad Poetry

Lagta Hai Ab Hum Usky
Waham-O-Guman Say Bhi Gaye!

لگتا ہے اب ہم اُس کے
وہم و گُمان سے بھی گئے!

Qurbaten Hoty Howe Bhi Faslon Main Qaid Hain,
Kitni Azadi Say Hum Apni Hadon Main Qaid Hain!

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں،
کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں!

Emotional Sad Shayari in Urdu

Tang Agai Hon Main Is Haly-E-Zindagi Say,
Aa Kahen Mar Kay Phank Day Muge!

تنگ آگئی ہوں میں اس ھالِ زندگی سے،
آکھیں مار کے پھینک دے مجھے!

سب کو کنگن سے محبت نہیں ہوتی پاگل
سارے شاعر تو وصی شاہ نہیں ہو سکتے

ہوائیں معذرت بھی کر لیں تو ٹہنی ٹوٹی ہی رہے گی

تم نے دیکھے ہی نہیں وہ چراغ شاید

جو بجتے ہوئے بھی ہواؤں سے اُلجھ جاتے ہیں

لباسِ عشق پہن کر قلندروں کی طرح

ہم تیری یادوں کی دنیا میں رقص کرتے ہیں

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

تجھ پہ شاعری کرتے بھی تو کیا لکھتے

تجھے یار لکھتے فنکار لکھتے یا اداکار لکھتے 🙏

یہ تیرا شہر تیرے لوگ روایات تیری

تو اگر گاؤں میں ہوتا تو ہمارا ہوتا

کاش سڑکوں کی طرح زندگی کے راستوں پر بھی لکھا ہوتا

کہ آگے خطرناک موڑ ہے ذرا سنبھل ک

اکثر جن کی ہنسی خوبصورت ہوتی ہے مرشد

ان کے زخم کافی گہرے ہوتے ہیں

سب حادثات مل کر میرا کچھ نہ کر سکے

اِک تیرا اجتناب __ میری جان لے گیا

یہ رکھ رکھاؤ کبھی ختم ہونے والا نہیں

بچھڑتے وقت بھی تجھ کو گلاب دوں گا میں

وہ جس کے ساتھ وابستہ تھی حیات میری

اس کا حکم ہے اب رابطہ نہیں کرنا

جو لوگ جانتے ہوں گے بچھڑ جانے کا دکھ

وہ ساتھ بیٹھتے پرندوں کو بھی اُڑایا نہیں کرتے

کسی کو محبت میں چھوڑنا

اس کا قتل کرنے کے برابر ہے

ہم تیرے دستِ مسیحائی کو ترسے ہوئے لوگ

جس سے بھی ہاتھ ملاتے ہیں تجھے سوچتے ہیں

اس کمرے کی ہوا میرے لئے مضرِ صحت ہو جاتی ہے

جس میں تمہاری سانسوں کی موجودگی نہ ہو

اور اس رنج سے وحشت بھی نہیں ہے مجھکو

تُو کے میرا ہی سہی پھر بھی نہیں ہے میرا

مجھے نہیں مطلب کون کس کے ساتھ کیسا ہے

جو میرے ساتھ اچھا ہے وہ میرے لئے اچھا ہے

لگا کر عشق کی بازی سنا ہے روٹھ بیٹھے ہو

محبت مار ڈالے گی ابھی تم پھول جیسے ہو

اُلجھن کیا بتاؤں میں تمہیں اپنے دل کی

تیرے ہی گلے لگ کر تیری ہی شکایت کرنے کو جی چاہتا ہے

تمہاری کچھ پل کی چاہت نے

ہمیں عمر بھر کے لئے اداس کر دیا

وہ اپنے فائدے کی خاطر پھر آ ملے ہم سے

ہم نادان یہ سمجھے کہ ہماری محبت میں اثر بہت ہے

دل نہ لگ جائے کسی سے یہ خیال کرنا دوست

دن تو گزر جاتے ہیں خدا کی قسم راتیں مار دیتی ہیں

تجھے کیا لگتا ہے مجھے چاہنے والا کوئی نہیں تیرے سوا

تم چھوڑ کر تو دیکھو موت تڑپ رہی ہے مجھے پانے کے لیے

کہاں کہاں سے مٹاؤ گے یادیں میری

ہم تو تجھے ہر موڑ پہ یاد آئیں گ

دلوں کی رمز فقط اہلِ درد جانتے ہیں

تیری سمجھ میں میری بات آ نہیں سکتی

کبھی آؤ تو تم کو سنائیں وہ درد

جو ہم نے دلوں میں چھپا رکھے ہیں

تجھ کو تو ستم کا بھی سلیقہ نہیں ہے یار

اتنا تو درد دے کہ سہولت سے مر سکیں

ہر اِک شب ہر گھڑی گزرے قیامت یوں تو ہوتا ہے

مگر __ ہر روزہ ہو روزِ جزا ایسے نہیں ہوتا

کانٹوں سے کیا گِلہ وہ تو مجبور ہیں اپنی فطرت سے

درد تو تب ہوا جب پھول بھی زخم دینے لگے

درد کی شام ہو یا سُکھ کا سویرا ہو

سب کچھ قبول ہے اگر ساتھ اِک تیرا ہو

میرے لفظ میرے اپنوں کو تکلیف دیتے ہیں مرشد

سوچتی ہوں خاموشی سے خاموش ہو جاؤں

ان سے پوچھ کر آنا ان کے دیدار کی قیمت

اگر وہ جان بھی مانگیں تو سودا منظور کر آنا

چوبیس گھنٹے باتیں کرنے والا

تیرے دو لمحوں کو ترس رہا ہے

کسی کو محبت میں چھوڑنا

اس کا قتل کرنے کے برابر ہے

میں مر گیا ہوں کہ زندہ ہوں میرے بارے میں

خدا کرے تجھے اتنی بھی اب خبر نہ ملے

وقت بہت بڑے اور گہرے زخم دیتا ہے

اس لیے گھڑی میں پھول نہیں سوئیاں ہوتی ہیں

تیرا نام تیری محبت اور تیری یادیں

میرے ساتھ رہیں گی آخری چار تکبیروں تک

یعنی وہ جو محبت تھی وہ یکطرفہ تھی

یعنی ہم نے پالا تھا خوامخواہ کا دکھ

وہ جنازہ تھا میری اکلوتی محبت کا

ورنہ گاؤں میں رخصتیاں آج بھی ہوتی ہیں

یہ عشق پیار محبت کچھ بھی نہیں مرشد

فقط جو شخص آج تیرا ہے وہ کل کسی اور کا ہوگا

وہی زندگی وہی مرحلے وہی کارواں وہی قافلے

مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی ہم نہیں کبھی تم نہیں

جن کو طوفاں سے اُلجھنے کی ہو عادت محسن

ایسی کشتی کو سمندر بھی دعا دیتے ہیں

اب ہم بھی تمہارے ہیں کشتی بھی تمہاری ہے
اب پلٹ کے نہ دیکھیں گے ساحل کا خدا حافظ

ہوتا تو نہیں مگر ہم نے کیا ہے

اِک یاد مسلسل سے لگاتار گزارا

چھوڑ کے جاؤ کچھ ایسے کہ بھرم رہ جائے

دل سے کچھ ایسے نکالو میری تضحیک نہ ہو

اپنی محبت پہ اتنا دعویٰ نہ کیا کر اے دوست

کسی نے ہمیں بھی چھوڑا ہے ہزاروں قسمیں اُٹھانے کے بعد

صہبائے مُشکبار سے _ آگے کی چیز ہے

وہ جام سے _ خُمار سے آگے کی چیز ہے

سمجھے گا کوئی کیسے تیری بے رُخی کا لُطف

جو التفاتِ یار سے __ آگے کی چیز ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *