Kafan shayari

poetry
Kafan shayari

آج پھر وہ نکلے ہیں بے نقاب شہر میں
آج پھر کفن کی دکان پر رش ہوگا

بُلا دو اس کو اخری دیدار کرنے کیلئے
کفن سر پر ہے جا رہی ہوں عمر بھر کیلئے

جن پر لُٹا چُکا تھا میں دنیا کی رونقیں
اُن وارثوں نے مجھ کو کفن ناپ کر دیا

غرور کس بات کا ہے صاحب
جو کفن ہمارا ہے وہی تمہارا بھی ہے

سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے
کفن سرکاؤ میری بے زبانی دیکھتے جاؤ

قدر کرنی ہے تو زندگی میں کرو
چہرے سے کفن اٹھاتے وقت تو نفرت کرنے والے بھی رُو پڑتے ہیں

یہ جسم خاک ہو تیرے در پر اُڑا کرے
تیرے شہیدِ عشق کو گور و کفن سے کیا

کفن پہن لیا میرے الفاظ کے بہتے اشکوں نے
شاعری میری نے رُولایا تو بہت پر تجھے یقین نہ آیا

جو دکھ بچ جائیں ، میرے کفن پر لکھ دینا

دفن پر شاعری مکمل ہوئی کل کفن پر شاعری ہوگی

دعا کرو اس عید پر خدا اپنے پاس لے جائے
اس عید پہ مجھے تحفہ میں کفن مل جاۓ

بسنتی قبا پر ترے مر گیا ہے
کفن میر کو دیجیو زعفرانی

جو رہ گئے ہوں الزام
میرے کفن پر لکھ دینا

ڈالنا میری لاش پر کفن اپنے ہاتھوں سے
کہیں تیرے دیے ہوئے زخم کوئی اور نہ دیکھ لے

کفن نہ ڈالو میرے چہرے پر
مجھے عادت ہے مسکرانے کی
آج کی رات مجھے نہ دفنا ہو یارو
کل امید ہے اس کے آنے کی

جب وہ آئے تو کفن نہ اٹھانا میری لاش پر سے
اسے بھی تو پتہ چلے یار سے بات نہ ہو تو دن کیسے گزرتے ہیں

ہمیں دنیا سے کیا مطلب مدرسہ ہے وطن اپنا
مریں گے ہم کتابوں پر ورق ہوگا کفن اپنا

دنیا بہت مطلبی ہے ساتھ کوئی کیوں دے گا
مفت کے یہاں کفن نہیں ملتا تو بغیر غم کی محبت کون دے گا

زندگی میں لوگ دکھ کے سوا دے بھی کیا سکتے ہیں
مرنے کے بعد کفن دیتے ہیں وہ بھی رو رو کے

تیرے دل کو سجائیں گے اپنے ارمان دے کر
تیرے لبوں کو ہنسائیں گے اپنی مسکان دے کر
تجھے کفن سے اٹھائیں گے
تیرے جسم میں اپنی جان دے کر

کفن نہ ڈالو میری لاش پر مجھے عادت ہے مسکرانے کی
نہ اٹھاؤ میرا جنازہ مجھے امید ہے کسی کے آنے کی

نکلے تھے علم کی راہ پر
کیا پتا تھا کفن میں واپس لوٹیں گے

چوم کر میرے کفن کو اس نے کیا خوب کہا
نیا کپڑا کیا پہن لیا اب دیکھتے بھی نہیں

میری ماں نے مجھ کو نصیحت کی تھی
کفن پہن کے آ جانا مگر ہار کر مت آنا

میرے مرنے کے بعد میری کہانی لکھنا
کیسے برباد ہوئی میری جوانی لکھنا
اور لکھنا کہ میرے ہونٹ خوشی کو ترسے
کیسے برسا میری آنکھوں سے پانی لکھنا
اور لکھنا کہ اسے انتظار تو بہت تھا تیرا
آخری سانسوں میں وہ ہچکیوں کی روانی لکھنا
لکھنا کہ مرتے وقت بھی دیتا تھا دعا تجھ کو
ہاتھ باہر تھے کفن سے یہ نشانی لکھنا

کفن میرا ہوگا انہی کا دوپٹہ
بڑی دھوم سے میری میت اٹھے گی

میرا ہر لفظ تیری ہر بات سے اچھا ہوگا
میرا ہر دن تیری ہر رات سے اچھا ہوگا
یقین نہ آئے اگر تو کفن اٹھا کے دیکھ لینا
میرا جنازہ تیری بارات سے اچھا ہوگا

دور نہیں وہ لمحہ اب
جب ہمارے لیے بھی کفن خریدا جائے گا

ہمیں کیا پتا تھا کہ زندگی اتنی انمول ہے
کفن اوڑھ کر دیکھا تو نفرت کرنے والے بھی رو رہے تھے

دل جگر آنکھ کفن اشک محبت آہیں
سارا گھر بار سمیٹیں گے چلے جائیں گے

آ جانا تم کچھ ہی پل کی تو بات ہوگی
وضو ، کفن ، دعا __، دفن

ایک دن کفن میں لپٹ کر سو جاؤں گا اے مخالفو
پھر رؤ گے ہم سے بات کرنے کے لیے

کفن نہ ڈالو میری لاش پر مجھے عادت ہے مسکرانے کی
نہ اٹھاؤ میرا جنازہ مجھے امید ہے کسی کے آنے کی
اگر دیر ہو جائے تو کچھ نہ کہنا
اسے عادت ہے مجھے ستانے کی
جب پہنچ جائے میری لاش پہ تو اسے کہنا کوئی ضرورت نہیں آنسو بہانے کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *